02/05/2026 | Press release | Distributed by Public on 02/06/2026 01:23
وزیراعظم اسلامی جمہوریہ پاکستان محمد شہباز شریف کا یوم یکجہتی کشمیر 5 فروری 2026 پر پیغام
ہر سال 5 فروری کو یوم یکجہتیٔ کشمیر منایا جاتا ہے۔ یہ دن اس عزم کی تجدید کا موقع ہے کہ پاکستان کے عوام اور حکومت، اپنے کشمیری بھائیوں اور بہنوں کے حق خودارادیت کی منصفانہ جدوجہد میں ان کی اصولی اور غیر متزلزل حمایت جاری رکھیں گے۔
جموں و کشمیر کا تنازع اقوام متحدہ کے ایجنڈہ پر موجود دیرینہ حل طلب تنازعات میں سے ایک ہے۔ان برسوں کے دوران اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعدد قراردادوں نے بلا شبہ اس حقیقت کو تسلیم کیا ہے کہ جموں و کشمیر ایک متنازع خطہ ہے، اور اس کے حتمی مستقبل کا فیصلہ کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق، ایک آزاد اور غیر جانبدار رائے شماری کے ذریعے کیا جانا ہے۔ تاہم تقریبا آٹھ دہائیوں سے بھارت کی ہٹ دھرمی کے باعث کشمیری عوام کو اس بنیادی حق سے محروم رکھا جا رہا ہے۔
دہائیوں کی خونریزی، ظلم و ستم اور بربریت کے باوجود، بھارتی مقبوضہ جموں و کشمیر (IIOJK) آج بھی بھاری فوجی موجودگی، مکمل جبر اور سنگین انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا گڑھ بنا ہوا ہے۔ من مانی سیاسی نظربندیاں، حقیقی سیاسی سرگرمیوں کا گلا گھونٹنا، اور ذرائع ابلاغ پر سخت پابندیاں، مقبوضہ جموں و کشمیر میں اختلاف رائے کو دبانے کے لیے بھارت کے معمول کے ہتھکنڈے بن چکے ہیں۔
5 اگست 2019 کو بھارت نے غیر قانونی اور یکطرفہ انتظامی و قانونی اقدامات کا ایک ایسا سلسلہ شروع کیا، جس کا مقصد مقبوضہ جموں و کشمیر پر اپنے جبری تسلط کو مضبوط بنانا تھا۔ یہ اقدامات نہ صرف اقوام متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی ہیں بلکہ متعلقہ سلامتی کونسل کی قراردادوں اور چوتھے جنیوا کنونشن کی بھی صریحا نفی کرتے ہیں۔
آبادی کے تناسب میں زبردستی مصنوعی تبدیلی یا کشمیر کی قانونی اور انتظامی حیثیت کو بدلنے کی بھارت کی یہ کھوکھلی کوششیں، اسے اس کی بین الاقوامی ذمہ داریوں سے بری الزمہ نہیں کر سکتیں، اور نہ ہی کشمیری عوام کے ناقابل تنسیخ حقوق کو کمزور کر سکتی ہیں۔
مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارت کے غیر قانونی اقدامات ہندوتوا نظریے سے متاثر ہیں، جس کا مقصد امتیازی سلوک کو معمول بنانا، مذہبی آزادیوں کو محدود کرنا اور اختلاف رائے کو جرم قرار دینا ہے۔ مقبوضہ جموں و کشمیر میں مساجد اور ان کی انتظامی کمیٹیوں کی مسلسل نگرانی، مذہبی آزادی کے حق کی سنگین خلاف ورزی ہے اور مسلم آبادی کو درپیش امتیازی سلوک کی واضح عکاسی کرتی ہے۔ افسوسناک طور پر، بھارتی قبضہ اب محض عسکری جبر تک محدود نہیں رہا بلکہ اس نے نظریاتی جبر کی شکل اختیار کر لی ہے، جس کا مقصد ایک پوری قوم کو خاموش اور بے اختیار بنانا ہے۔
دہائیوں کے ظلم و جبر کے باوجود بہادر اور ثابت قدم کشمیری عوام نے اپنی جائز امنگوں سے دستبردار ہونے سے انکار کر دیا ہے۔ پاکستان ان کی بے مثال جرات، استقامت اور قربانیوں کو سلام پیش کرتا ہے۔
بطور وزیراعظم پاکستان، میں نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سمیت ہر بین الاقوامی فورم پر کشمیری عوام کے حق خودارادیت کی بھرپور اور مسلسل وکالت کی ہے۔
آج یوم یکجہتیٔ کشمیر کے موقع پر، میں اپنے کشمیری بھائیوں اور بہنوں کو یقین دلاتا ہوں کہ پاکستان، کشمیری عوام کی آزادی کی جدوجہد میں اپنی مکمل اخلاقی، سفارتی اور سیاسی حمایت اس وقت تک جاری رکھے گا، جب تک وہ اقوام متحدہ کی سرپرستی میں وعدہ کی گئی آزاد اور غیر جانبدار رائے شماری کے ذریعے اپنا حق خودارادیت حاصل نہیں کر لیتے۔
انشاء اللہ، تاریکی کے یہ دن جلد آزادی کی روشن سحر میں بدل جائیں گے، اور وہ دن دور نہیں جب جموں و کشمیر کے عوام بھارتی قبضے کی زنجیروں کو توڑ کر خوف سے آزاد مستقبل میں اپنی زندگیاں بسر کریں گے۔